خاموشی توڑنا ضروری ہے: پاکستان میں ذہنی صحت، علاج اور معاشرتی جھجک
اکثر ہم ایسے افراد سے ملتے ہیں جو مہینوں، بلکہ بعض اوقات برسوں تک اپنی ذہنی تکلیف خاموشی سے برداشت کرتے رہتے ہیں—صرف اس خوف سے کہ کہیں انہیں "کمزور" یا "پاگل" نہ سمجھ لیا جائے۔ یہی معاشرتی جھجک اور خاموشی ذہنی صحت کے مسائل کے بروقت علاج میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اسی خاموشی کو توڑنے اور ذہنی صحت کے بارے میں درست معلومات اور مدد تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے Mindcare.pk کام کر رہا ہے۔
پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے بھی اپنی ذہنی صحت کے تجربات، جن میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور پینک اٹیک شامل تھے، کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی۔ ان کی گفتگو صرف ایک معروف شخصیت کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی صحت سے متعلق موجود stigma اور خاموشی پر گفتگو کا ایک اہم موقع بھی ہے۔
ایک معروف شخصیت کا ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنا اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ سمجھنا ہے کہ ذہنی مشکلات صرف مشہور شخصیات یا کسی خاص طبقے تک محدود نہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سے افراد اینگزائٹی، ڈپریشن، پینک اٹیک اور دیگر ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں—اکثر بغیر کسی مناسب مدد کے، اور نیچے دیے گئے تحقیقی اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد کسی ایک واقعے کی تفصیل بیان کرنا نہیں، بلکہ ایک اہم پیغام اجاگر کرنا ہے:
ذہنی بیماری ایک حقیقی اور قابلِ علاج طبی کیفیت ہے، اور مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
2017: ایک مشکل دور کا آغاز
ماہرہ خان نے بتایا کہ 2017 ان کی زندگی کا ایک انتہائی مشکل دور ثابت ہوا۔ اس عرصے میں ان کی ذاتی زندگی سے متعلق تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد انہیں شدید عوامی تنقید اور منفی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق مسلسل دباؤ اور منفی عوامی توجہ نے ان کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اینگزائٹی، ڈپریشن اور بعد ازاں پینک اٹیک کے تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مشکل دور میں ان کی نیند متاثر ہوئی اور ہاتھ کانپنے جیسی جسمانی علامات بھی سامنے آئیں۔.
یہ تجربہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی جذباتی، جسمانی اور روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں: پاکستان میں ذہنی صحت کی تحقیق
ماہرہ خان کا تجربہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان میں کی گئی متعدد تحقیقات اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ذہنی مشکلات ایک وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا مسئلہ ہیں۔
قومی سطح پر پھیلاؤ: 2022 میں کیے گئے پاکستان کے قومی نفسیاتی امراض کے سروے کے مطابق، ملک میں کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے کا مجموعی (lifetime) پھیلاؤ تقریباً 38 فیصد اور موجودہ (current) پھیلاؤ تقریباً 32 فیصد پایا گیا، جس میں موڈ ڈس آرڈرز، اینگزائٹی اور دیگر ذہنی مسائل شامل ہیں۔
کورونا کے دوران صورتحال: 2020 کے لاک ڈاؤن کے دوران عام آبادی پر کیے گئے ایک آن لائن سروے میں تقریباً 40 فیصد شرکاء میں ڈپریشن اور تقریباً 58 فیصد میں اینگزائٹی کی علامات پائی گئیں۔
شہری آبادی میں ڈپریشن: پاکستان کے تین صوبائی دارالحکومتوں (لاہور، کوئٹہ اور کراچی) میں کیے گئے ایک سروے میں لاہور میں سب سے زیادہ (تقریباً 53 فیصد) گھرانوں میں ڈپریشن کی علامات پائی گئیں، جبکہ کوئٹہ اور کراچی میں یہ شرح بالترتیب تقریباً 44 اور 36 فیصد رہی۔
نوجوان اور طلبہ: کراچی کے سرکاری اور نجی ہائی اسکولوں کے طلبہ پر کی گئی ایک تحقیق میں نصف سے زائد (تقریباً 53 فیصد) طلبہ میں اینگزائٹی یا ڈپریشن کی علامات دیکھی گئیں، جن میں لڑکیوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ میڈیکل کالج کے طلبہ پر ہونے والی مختلف تحقیقات میں بھی اینگزائٹی اور ڈپریشن کی شرح خاصی بلند رپورٹ ہوئی۔
زچگی کے بعد ڈپریشن: آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں postpartum depression (زچگی کے بعد ڈپریشن) کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
علاج تک رسائی میں خلا
تحقیق صرف یہ نہیں بتاتی کہ ذہنی مسائل کتنے عام ہیں، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ علاج تک رسائی کس قدر محدود ہے:
- عالمی ادارہ صحت (WHO) کے معیار کے مطابق ہر 10 ہزار افراد کے لیے ایک ماہرِ نفسیات (psychiatrist) ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں ماہرینِ نفسیات کی تعداد نہایت کم ہے — بعض حالیہ رپورٹس کے مطابق پورے ملک میں سو کے قریب باقاعدہ ماہرینِ نفسیات(psychiatrist) دستیاب ہیں، جبکہ ماہرینِ کے اندازے کے مطابق ضرورت ہزاروں میں ہے۔
- ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق پاکستان میں 20 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے صرف چند سو ماہرینِ نفسیات اور محض درجن بھر کے قریب نفسیاتی اسپتال موجود ہیں، جس کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا تقریباً 90 فیصد افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
- صحت کے قومی بجٹ میں ذہنی صحت کے لیے مختص رقم نہایت کم — تقریباً 0.4 فیصد — بتائی جاتی ہے، جبکہ ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں ذہنی صحت کی خدمات اور بھی محدود ہیں۔
- خودکشی سے متعلق اعداد و شمار بھی تشویشناک ہیں: حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں خودکشی کی شرح ہر ایک لاکھ افراد میں تقریباً 10 کے قریب بتائی گئی ہے اور اس میں سالانہ اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ذہنی صحت کا مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ ایک قومی سطح کا صحتِ عامہ (public health) کا چیلنج ہے، جس کے لیے آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ نظامِ صحت میں بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ذہنی صحت کا stigma اتنا گہرا کیوں ہے؟
پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت سے متعلق ہچکچاہٹ مختلف سماجی، ثقافتی اور معلوماتی عوامل کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔
1. غلط فہمیاں
ڈپریشن اور اینگزائٹی کو بعض اوقات محض کمزوری، توجہ کی کمی یا "بس تھوڑی اداسی" سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل پیچیدہ عوامل سے پیدا ہو سکتے ہیں اور ان کے لیے مناسب تشخیص اور پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
2. خاندانی اور معاشرتی دباؤ
"لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف بہت سے افراد کو اپنی مشکلات بیان کرنے یا مدد حاصل کرنے سے روک دیتا ہے۔
3. علاج تک محدود رسائی
بعض علاقوں میں تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات اور دیگر ذہنی صحت کے ماہرین تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ فاصلہ، مالی اخراجات اور معلومات کی کمی بھی علاج میں رکاوٹ بن سکتی ہے — جیسا کہ اوپر دیے گئے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے، ماہرینِ نفسیات کی اکثریت بڑے شہروں میں مرکوز ہے جبکہ دیہی آبادی کی بڑی تعداد ان خدمات سے محروم ہے۔
4. جسمانی اور ذہنی صحت میں فرق
بخار، درد یا کسی جسمانی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا عام بات سمجھی جاتی ہے، لیکن مسلسل بے چینی، افسردگی یا پینک کی کیفیت میں professional help حاصل کرنے سے بعض لوگ اب بھی ہچکچاتے ہیں۔
ذہنی صحت بھی مجموعی صحت کا بنیادی حصہ ہے۔ اسے نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے بارے میں بات کرنا اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
کامیابی اور ذہنی سکون ایک دوسرے کے ضامن نہیں
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ جو لوگ بظاہر کامیاب، خوبصورت یا مالی طور پر مستحکم ہیں، وہ ذہنی مشکلات سے محفوظ ہوتے ہیں۔
حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔
ڈپریشن اور اینگزائٹی کسی شخص کی سماجی حیثیت، شہرت یا مالی حالت تک محدود نہیں۔ ان کے پیچھے حیاتیاتی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کا پیچیدہ امتزاج ہو سکتا ہے۔
شہرت اور کامیابی بھی ہمیشہ ذہنی سکون کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ مسلسل عوامی توجہ، تنقید، کام کا دباؤ اور ذاتی زندگی میں مداخلت بعض افراد کے لیے اضافی ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
ذہنی بیماری کردار کی کمزوری نہیں، بلکہ ایک حقیقی صحت کا مسئلہ ہے۔
ذہنی بیماری پر بات کرنا کمزوری نہیں
پاکستان میں آج بھی بہت سے لوگ ذہنی صحت کے مسائل پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ بعض کو خدشہ ہوتا ہے کہ لوگ انہیں کمزور سمجھیں گے، جبکہ کچھ افراد professional help لینے کو بھی شرمندگی سمجھتے ہیں۔
ماہرہ خان کا اپنی مشکلات کے بارے میں کھل کر بات کرنا ذہنی صحت کے stigma کو کم کرنے کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈپریشن یا اینگزائٹی کا سامنا کرنا کسی شخص کی کمزوری نہیں۔ اسی طرح psychologist یا psychiatrist سے مدد لینا بھی شرمندگی کی بات نہیں۔
جس طرح جسمانی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح ذہنی صحت سے متعلق مسلسل یا شدید مشکلات کی صورت میں qualified mental health professional سے مشورہ کرنا بھی صحت مند اور ذمہ دارانہ قدم ہے۔
مدد مانگنا ہمت ہے
ذہنی صحت سے متعلق کسی معروف شخصیت کی گفتگو ہمیں ایک اہم پیغام دیتی ہے:
اپنی تکلیف کو چھپانے کے بجائے اس کے بارے میں بات کرنا اور مناسب مدد حاصل کرنا کمزوری نہیں، بلکہ ہمت ہے۔
اگر کوئی شخص مسلسل اداسی، بے چینی، گھبراہٹ، نیند میں خرابی، دلچسپی میں کمی، توجہ کے مسائل یا روزمرہ زندگی میں واضح مشکلات کا سامنا کر رہا ہو تو ان علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ہر علامت لازماً کسی ذہنی بیماری کی نشاندہی نہیں کرتی، لیکن مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں qualified psychologist یا psychiatrist سے مشورہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ
ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کرنے والی معروف شخصیات معاشرے میں ایک اہم گفتگو کا آغاز کر سکتی ہیں، لیکن حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم بحیثیتِ معاشرہ:
- ذہنی بیماری کو حقیقی صحت کے مسئلے کے طور پر تسلیم کریں، نہ کہ کردار کی کمزوری کے طور پر۔
- اپنے پیاروں کی بات بغیر فیصلہ سنائے سنیں۔
- ذہنی صحت کے بارے میں درست اور مستند معلومات عام کریں۔
- ضرورت مند افراد کے لیے professional help تک رسائی آسان بنائیں۔
- بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کے ذہنی مسائل کو سنجیدگی سے لیں۔
- یہ سمجھیں کہ مدد مانگنا شرمندگی نہیں بلکہ صحت مند رویے کی علامت ہے۔
- حکومتی اور نجی سطح پر ذہنی صحت کے بجٹ اور افرادی قوت میں اضافے کی وکالت کریں، تاکہ اوپر بیان کردہ علاج کا خلا کم ہو سکے۔
کا عزم Mindcare.pk
کا مقصد پاکستان میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا، معاشرتی جھجک کو کم کرنا اور لوگوں کو تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات سے Mindcare.pk
پیشہ ورانہ مشاورت تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں کوئی شخص اپنی ذہنی تکلیف بیان کرتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے، جہاں مدد مانگنے والے کو "کمزور" نہ کہا جائے، اور جہاں ذہنی صحت کو جسمانی صحت کی طرح اہم سمجھا جائے۔
خاموشی توڑیں۔ بات کریں۔ مدد حاصل کریں۔
کیونکہ ذہنی صحت کی حفاظت بھی صحت کی حفاظت ہی ہے۔
Mindcare.pk — صحت مند ذہن، مضبوط پاکستان
حوالہ جات (References)
- National psychiatric morbidity survey of Pakistan (2022), as cited in Journal of the Pakistan Medical Association — psychiatrist shortage و امراض کا پھیلاؤ: https://jpma.org.pk/index.php/public_html/article/view/31107
- "Prevalence of depression and anxiety among general population in Pakistan during COVID-19 lockdown: An online-survey", Current Psychology / PMC: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC8830029/
- "Prevalence of Depression among Households in Three Capital Cities of Pakistan: Need to Revise the Mental Health Policy", PLOS ONE: https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371%2Fjournal.pone.0000209
- "Prevalence of anxiety and depression in high school students of Karachi, Pakistan", PMC: https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC9121923/
- "Evaluating Pakistan's mental healthcare system using WHO-AIMS", International Journal of Mental Health Systems / PMC: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC11515678/
- "Closing the mental health gap: transforming Pakistan's mental health landscape", PMC: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC11835998/
- "Driven by social, economic stressors one of three Pakistanis suffering from psychological disorders", The Express Tribune: https://tribune.com.pk/story/2575177/driven-by-social-economic-stressors-one-of-three-pakistanis-suffering-from-psychological-disorders
- "Collaborations in Pakistan", Deconstructing Stigma (McLean Hospital) — postpartum depression و psychiatrist ratio کے اعداد و شمار: https://deconstructingstigma.org/pakistan
- "The state of mental health in Pakistan: analyzing system gaps and social determinants using data from the Global Mental Health Countdown 2030", Frontiers in Public Health: https://www.frontiersin.org/journals/public-health/articles/10.3389/fpubh.2026.1734392/full